![]() |
![]() |
|
|||||||
|
|
Thread Tools | Display Modes |
|
|
#1 |
|
دروسِ رمضان از۔شیخ خالد الحسینان درس (6) برائی کے بعد نیکی پیش کردہ: ادارہ السحاب ترجمہ: انصاراللہ اردو ٹیم اعوذ بالله من الشيطان الرجيم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أياماً مَّعدوداتٍ (٢:١٨٣)۔ ترجمہ: ائے ایمان والوں تم پرر وزے فرض کردئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیا ر کرو یہ چند ایام ہیں بسم الله الرحمن الرحیم الحمدالله رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فيه ، واشهد ان لااله الا الله وحدہ لا شریک له واشهد ان محمدا عبدہ ورسوله اما بعد ! رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتّق الله حيثما كنت وأتبع السيئة الحسنة تمحها وخالق الناس بخلقٍ حسن ترجمہ: جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو برائی کے بعد نیکی کر وہ اسے (یعنی برائی کو) مٹادے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ ہم اس حدیث کے آدھے حصے کولیتے ہیں یعنی (برائی کے بعد نیکی کر یہ اسے مٹادے گی) آپ اسے اپنی زندگی کا لازمہ بنالیں یہ آپکا منہج حیات اورطرزوانداز ہونا چاہیے کہ آپ کسی نافرمانی یاکسی گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو فورا کسی بھی قسم کی اطاعت یا عبادت کی جانب دوڑیں اللہ جل وعلا اپنی کتاب کریم میں فرماتاہے: وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفاً مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ ترجمہ: اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں اور رات کی کچھ گھڑیوں میں کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ اللہ جل وعلا کی رحمت ہے کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں اسی لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کئی طریقے اور کئی ذرائع عطاکئے ہیں جنہیں ہم گناہ کرنے کے بعد اختیار کرسکتے ہیں شیطان کی چالیں دیکھیں کہ کس طرح شیطان اس شخص پر چال چلتاہے اللہ سبحانہ وتعالی فرماتاہے: وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً ترجمہ: شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی مدد چھوڑ نے والا ہے (خذولا:مدد چھوڑنے والا،روکنے والا). یعنی اسے اطاعت ، عبادت اور توبہ سے روکتاہے یہ شیطان کی ترجیحات ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً ترجمہ: درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے چنانچہ تم اسے اپنا دشمن سمجھو اسے اپنا دشمن ہی سمجھو نہ کہ اپنا ساتھی یا دوست یا ہم مجلس اور ہم کلام سمجھو اسے دشمن سمجھو لیکن انسان نے اس کے برعکس کیا وہ شیطان کو ہمیشہ اپنا ساتھی سمجھتاہے سمعنا واطعنا (یعنی ہم نے سن لیا اور مان لیا) کہتے ہوئے شیطان کے کسی مطالبے کو رد نہیں کرتا شیطان کے ہر حکم کی تعمیل کرتاہے یہ شیطان کے سامنے اس انسان کی کمزور شخصیت کی دلیل ہے جبکہ اللہ سبحانہ و تعالی نےاس بات کا ذکر کیا ہےکہ شیطان کمزور شخصیت والا ہے إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفاً ترجمہ : یقین جانو کہ حقیقت میں شیطان کی چال نہایت کمزور ہے شیطان کی چال کمزور ہے لیکن بعض لوگ جب کسی نافرمانی کا ارتکاب کرلیں تو اس نافرمانی پر تسلسل اختیار کرلیتےہیں اس کے اطاعت کے کام کریں لیکن وہ کہتاہے کہ میں کس طرح اطاعت کروں جبکہ ابھی تو نافرمانی کا مرتکب ہوا ہوں ؟حالانکہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آپ دیکھیں گے انسان اپنے آپکونافرمان ہونے کی وجہ سے اطاعت گذاریوں اورعبادات سے محروم کرلیتاہے حالا نکہ یہ اس انسان کےلئے شیطان کی چال اور اسکی فریب کاریاں ہیں۔ مثال کے طور پر نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت کرتےہوئے فرمایا: من توضّأ نحو وضوئي هذا ثم قام وصلى ركعتين لا يحدّث بهما نفسه غُفر له ما تقدّم من ذنبه”, أو “غَفر الله له ما تقدّم من ذنبه (یہ حدیث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) جو شخص میرے وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعات نماز ادا کرے اس حالت میں کہ ان دونوں(رکعتوں) میں اپنے آپ میں مشغول نہ ہو اسکے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتےہیں یا اللہ تعالی اسکے گذشتہ گناہ بخش دیتاہے۔ انسان اگر کسی نافرمانی میں مبتلاہوجائے مثلا کسی حرام شے کو دیکھ لے یا جھوٹ بولے ،غیبت کرے یعنی کسی بھی نافرمانی کا مرتکب ہو جائے تو فورا ہی وضو کرلے اور دو رکعت نماز پڑھے ممکن ہے آپ کہیں یا شیطان انسان کے اندروسوسہ ڈالے کہ میں کچھ عرصے بعد پھر سے اس نافرمانی میں مبتلا ہوجاؤں ہم کہتے ہیں کہ ابھی اللہ تعالی سے توبہ کرلو تمہیں کیا معلوم شاید انہی ایام میں تمہیں موت آجائے کہ جن ایام میں تم نے توبہ کی ہو لہذاتوبہ کرو شاید تمہاری اللہ تعالی سے اس حال میں ملاقات ہو کہ تم توبہ کرچکے ہو کیا معلوم کسی گاڑی سے ٹکر لگ کردل کی دھڑکن رک جانے سے تمہاری موت واقع ہوجائے۔ شیطان کی کوشش ہے وہ اپنی پوری فوج کو حرکت میں لے آتاہے تاکہ انسان کو اطاعت گذاری اور عبادت سے اس بناء پر روک دے کہ وہ نافرمانی میں مبتلا ہوگیاہے۔ آپ کو کچھ ایسے بھی لوگ ملیں گے جو اپنے آپ کو نماز سے محروم رکھتے ہیں جب آپ اس سے کہیں کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے وہ کہے گا میں نماز کیسے پڑھ سکتاہوں جبکہ میں توزنا کرتاہوں کئی نوجوان اس مصیبت کا شکار ہیں اچھا ذرا بتائیں کہ ایک مسلمان اس حالت میں مرے کہ وہ نماز پڑھتاہو اور زنا بھی کرتاہودوسرا وہ جو زنا بھی کرتاہو اور نماز بھی نہیں پڑھتاہو بلاشبہ اللہ کے نزدیک زنا کا ارتکاب کرنے والا اور نماز پڑھنے والا مسلمان اس انسان سے افضل ہے جو زنا کرتاہے اور نماز بھی نہیں پڑھتا بعض علماء کہتےہیں ایسا شخص کافرہے کفر کی حالت میں مراہے۔ چنانچہ اگر آپ شیطان کو مغلوب کرنا اسےتباہ کرنا اور شکست دینا چاہتےہیں تو یہ اسکا سب سے بڑاذریعہ یہ ہے کہ جب آپ کسی نا فرمانی میں مبتلا ہوجائیں تو کچھ اطاعت کے کام اور عبادات کرلیں مثال کے طورپر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قال سبحان الله وبحمده مائة مرة غُفرت ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر کہ جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ سو مرتبہ کہے گا تواس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا اگر چہ وہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں سمندر کے جھاگ کا شمار سوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں کرسکتا لہذا جب آپ کوئی گناہ کر بیٹھیں تو سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہیں اسی طرح اس کے بعد سو بار استغفراللہ کہیں اور جو شے آپکومیسر ہواسکو صدقہ کریں اگرچہ کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہوکیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الصدقة تطفئ غضب الرب صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کردیتا ہے جیسا کہ ہم نے دو رکعت نماز کی ادائیگی کی جانب اشارہ کیا اسی طرح قرآن کریم کے کچھہ صفحات کی تلاوت بھی کریں کتاب اللہ کے ہر حرف پر دس نیکیاں ہیں تو آپ تصور کریں کہ قرآن کے ہرصفحے پر کتنی نیکیاں ہوں گی میرے خیال سے (قرآن کریم کا) ہر صفحہ دو سو یا اس سے زیادہ حرف پر مشتمل ہوگا ذراتصور کریں دس نکیوں کو دو سو حرف پر ضرب دینے سے کتنا بنتاہے دو ہزار نیکیاں بنتی ہیں لہذا آپ اللہ کے حکم سے گناہ کے ارتکاب کے بعد بہت سی اطاعت گذاریاں اور بہت سی عبادات کرتےہیں ایسا اس وقت ہوتاہے جب آپ اپنے نفس کو اللہ کی عظمت وقدرت دکھائیں۔ بعض لوگ کہتےہیں میں کمزور ہوں : ان سے عرض ہے کہ آپ نافرمانی کے سامنے کمزور (بے بس) ہیں تو فرمانبرداری کے سامنے طاقتور کیوں نہیں بنتے فرمانبرداری کے سامنے بھی کمزور ہی دکھائی دیتے ہیں یہ غلط ہے اور شیطان کی جانب سے وسوسہ ہے وہ آپکو ورغلاتاہے کہ آپ کہیں میں کمزور ہوں اپنے نفس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مجھ میں ہمت اور حوصلہ نہیں میں نافرمانی سے صبر نہیں کرسکتا میرےلئے نافرمانی کرنا لازمی ہے یہ بالکل غلط ہے اور شیطان کی طرف سے وسوسہ ہے آپ کو چاہیے کہ آپ طاقتور بنیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المؤمن القوي أحبّ إلى الله من المؤمن الضعيف ترجمہ: اللہ کو طاقتور مومن کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔ چنانچہ یہ آپکی عادت او رلازمہ اور طرز زندگی بن جائے کہ جب بھی آپ کسی نافرمانی کا ارتکاب کربیٹھیں تو فورا بہت سی اطاعت گذاریاں کرنے کی جانب دوڑیں ایک اطاعت گذاری کی طرف نہیں بلکہ بہت سی اطاعت گزاریوں اور عبادات کو سر انجام دیں شاید اللہ تعالی اپنی رحمت وکرم سےآپکو معاف کردے آپکو بخش دے اور آپکی زندگی کی تجدید کرے اس طریقے اور اس اسلوب کو اپنانے کی وجہ سے جب اللہ تعالی آپ کے اندر یہ معاملہ دیکھے گا تو آپ کو اطاعت گذاری اور توبہ کی توفیق دے گا۔ آپ یہ نہ کہیں کہ میں منافق ہوں میں زنا کرتا ہوں چوری کرتا ہوں اور شراب پیتا ہوں پھر اس کے بعد مسجد جاکر نماز پڑھتا ہوں یہ بھی شیطان کا وسوسہ ہے وہ آپ سے کہتا ہے کہ تم ابھی نافرمانی کررہے ہو پھر اطاعت گزاری کروگے یہ تو نفاق ہے شیطان چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے اور کسی بھی ذریعے سے آپکو اطاعت گزاری اور عبادت سے محروم کردے یعنی اسکا مقصد آپکو عبادت اور اطاعت گزاری سے دور کرنا ہے لہذا جس طرح ممکن ہو ان غلطیوں سے بچیں اور یہ چالیں شیطان کی جانب سے ہیں اپنے آپکو ایسا بنائیں کہ جب بھی خود میں کمزوری، سستی اور کوتاہی محسوس کریں تو اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں یہ متقین کی صفات میں سے ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پراصرار نہیں کرتے مومن کبھی نافرمانی پر اصرار نہیں کرتا تمام تر بھلائی اسی میں ہے کہ جب انسان کسی نافرمانی یا گناہ میں مبتلا ہوجائے تو فورا اللہ تعالی سے توبہ کرنے میں تیزی دکھائیں اور تمام تر برائی یہ ہے کہ انسان نافرمانی میں مبتلا ہونے کے بعد اس پر تسلسل اختیار کرلے اس نافرمانی کو علی الاعلان کرے اور اس پر اصرار کرے یہ مومنوں کی صفات میں سے نہیں کہ وہ نافرمانیوں پر اصرار کرتے ہوئے انہیں سرانجام دیں بلکہ اللہ سے توبہ کریں اور اگر آپ کہیں کہ ایک ماہ یا چند ماہ بعد میں پھر گناہ میں مبتلا ہوجاؤں گا تو میں کہتا ہوں ابھی اللہ تعالی سے توبہ کریں آپکو کیا معلوم شاید اللہ تعالی آپکو توبہ کی توفیق دے اور آپ کے دل میں اس نافرمانی اور گناہ کے لئے نفرت ڈال دے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور آپکو ان کاموں کی توفیق دے جسے وہ پسند کرتااور جس سے وہ خوش ہوتا ہے ۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين |
|
|
![]() |
Number of answers: 1 Only registered members can read replies. |
![]() |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
| Ansarullah: Urdu: Ramadan Lessons by Sheikh Khalid Al-Husainan: Lesson 5: God-Consciousness (Released by As-Sahab) | Jihaad Publications | 1 | 08-16-2011 04:12 AM | |
| Ansarullah: Urdu: Ramadan Lessons by Sheikh Khalid Al-Husainan: Lesson 4: Hellfire in the Quran (Released by As-Sahab) | Jihaad Publications | 1 | 08-16-2011 03:20 AM | |
| Ansarullah: Urdu: Ramadan Lessons by Sheikh Khalid Al-Husainan: Lesson 3: High Motivation in Supplication (Released by As-Sahab) | Jihaad Publications | 1 | 08-15-2011 05:09 PM | |
| Ansarullah: English: Ramadan Lessons by Sheikh Khalid Al-Husainan: Lesson 2: Good Manners (Released by As-Sahab) | Jihaad Related Media | 6 | 08-14-2011 08:35 PM | |
| Ansarullah: Urdu: Ramadan Lessons by Sheikh Khalid Al-Husainan: Lesson 2: Good Manners (Released by As-Sahab) | Jihaad Publications | 1 | 08-14-2011 08:15 PM | |
![]() |
![]() |
![]() |